بریگزٹ ڈیل نہ ہونے پربرطانیہ میں مارشل لاء لگنے کا خطرہ

برطانیہ میں بریگزیٹ ڈیل حکومت کے گلے میں ہڈی بن کر پھنس چکی ہے اور اس ڈیل پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ کل ہوگی جبکہ بریگزٹ ڈیل نا منظور ہونے اوراندرونی خانہ جنگی کی صورت میں مارشل لاء لگنے کا خدشہ پیدا ہوگیا اس کے علاوہ ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد کے ساتھ کرفیو کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
بریگزٹ ڈیل پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ کل ہوگی اورملک میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال پر مارشل لاء لگایا جاسکتا ہے۔ برطانوی حکومت نے تمام امکانات سے نمٹنے کے لیے تیاری شروع کردی ۔ ادھر برطانوی وزیراعظم تھریسامے کاکہنا ہے کہ ڈیل کی منظوری اور مسترد کئے جانے کی صورت میں ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب برطانوی وزیر صحت میٹ ہین کوک کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس ملکی امن و امان کے قیام کیلئے مارشل لاء کا آپشن قانون میں موجود ہے تاہم اس پر عملدرآمد کیلئے حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم اسے مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔
برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم بعض حلقوں کی جانب اعتراضات کے بعد سابق برطانوی حکومت نے یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون دوہزار سترہ کو ریفرنڈم ہوا تھا جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا
بریگزیٹ ڈیل پر وزیر اعظم تھریسامے کے خلاف 16 جنوری کو عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تھی، تھریسامے بریگزٹ ڈیل پاس نہ کراسکی تھیں لیکن 306 ووٹوں کے مقابلے میں 325 ووٹوں سے اپنی حکومت بچانے میں کامیاب رہی تھیں، اس دوران برطانیہ کے متعدد وزیرتھریسامے کا ساتھ چھوڑ گئے۔برطانیہ یورپی یونین سے 29 مارچ کو الگ ہو رہا ہے تاہم الگ ہونے کا کوئی معاہدہ ابھی تک طے نہیں پا سکا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.