ملائیشیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ

انیس سو ستاون میں برطانیہ سے آزادی کے بعد پہلی مرتبہ مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا کے کوئی بادشاہ اپنے عہدے سے دستبردارہوئے ہیں۔ سلطان محمد پنجم کی دستبراری کا اقدام 2 ماہ کی طبی رخصت کے بعد سامنے آیا،جبکہ اس دوران ماسکو کی سابقہ حسینہ سے ان کی شادی کی خبریں بھی گردش میں رہیں ۔

شاہی حکام کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس پر شاہی محل کے نگران وان احمد داہلان عبدالعزیز کے دستخط موجود ہیں ،تاہم شاہی حکام کی جانب سے استعفیٰ کی کوئی وجوہات سامنے نہ آسکیں،جس کی وجہ سےسلطان پنجم کے استعفیٰ پر سوال اٹھایا جارہا ہے۔

ملائیشیا میں آئینی طور پر شاہی نظام رائج ہےجس کے تحت ہر 5 سال بعد ملائیشیا کی 9 مختلف ریاستوں کے حکمرانوں میں سے ایک تخت نشین ہوتا ہے اور تخت نشینی کا یہ نظام انیس سو ستاون میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد عمل میں آیا تھا

سلطان محمد پنجم ملائیشین تاریخ میں تخت سے دستبردار ہونے والے پہلے بادشاہ ہیں،،،وہ دسمبر 2016 میں تخت نشین ہوئےاورنومبر2018 میں انہوں نے علاج کی غرض سے عارضی رخصت لی تھی جبکہ دستبراری کا فیصلہ بھی عارضی رخصت کے دوران ہی کیا گیا تھا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.