ملائیشین وزیر اعظم کشمیر کے مؤقف پر ڈٹ گئے

بھارت کی جانب سے مہاتیر محمد کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی اس تقریر پر اعتراض کیا گیا تھا جس میں انہوں نے عالمی دنیا کے سامنے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں قابض قرار دیا تھا۔ملائیشین وزیر اعظم نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے تشدد کا استعمال نہیں ہونا چاہیے، ہم اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ کشمیر کے معاملے پر دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے پر امن حل نکالنا ہوگا۔اُن کا کہناہےکہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اور دونوں ممالک کا ثالثی کے لیے رضا مند ہونا بھی ضروری ہے۔ بھارت کی جانب سے جاری سوشل میڈیا مہم ’’بائیکاٹ ملائیشیا‘‘ پر تبصرہ کرتےہوئےاُن کا کہنا تھا کہ اس سے دونوں ممالک کے معاشی اور باہمی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔مہاتیر محمد نے کہا کہ میں نے دو ٹوک الفاظ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر مودی کو اقوامِ متحدہ کی تقریر سے کوئی مسئلہ ہے تو وہ رابطہ کریں مگر وہاں سے کوئی فیڈ بیک نہیں ملا اور اگر کوئی رابطہ ہوتا تب بھی میں اپنی تقریر پر قائم رہتا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.