برطانوی شہزادی کی موت کے پیچھے ڈارک فورسز کا ہاتھ؟؟؟

لیڈی ڈیانا نے جنوری 1997 میں مائنز ایڈوائزری گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی جس کا مقصد بارودی سرنگوں پر پابندی عائد کروانا تھا۔ لیڈی ڈیانا کی موت کے 4 مہینے بعد دنیا کے 122 ممالک نے اوٹاوا ٹریٹی پر دستخط کیے ، جس کے تحت عالمی طور پر بارودی سرنگوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔مائنز ایڈوائزری گروپ کے تحت بارودی سرنگوں کے خلاف کام کرنے والے لوو میگراتھ کا کہنا ہے کہ لیڈی ڈیانا کی اس گروپ میں شمولیت ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی اور جان لیوا قسم کے ہتھیاروں پر پابندی لگنا شروع ہوئی۔بی بی سی کے سابق نمائندہ خصوصی مائیکل کول کہتے ہیں کہ بارودی سرنگوں پر پابندی عائد کروانا لیڈی ڈیانا کا بہت بڑا جرم تھا کیونکہ اس شعبے میں بہت بڑی رقم کا کاروبار تھا اور کوئی بھی ڈیانا کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پارہا تھا۔ڈیانا کے بٹلر پال برل نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شہزادی ڈیانا نے بارودی سرنگوں پر پابندی لگوانے کے بعد اسلحہ سازوں میں بہت سے دشمن پیدا کرلیے تھے۔شہزادی کےقریبی ساتھی سمون سائمنزکاکہناہےکہ جب ڈیانا نے بارودی سرنگوں پرپابندی کی مہم میں شمولیت اختیارکی توانہیں بہت بار دھمکیاں دی گئیں اور اپنی کیمپین سے باز رہنے کو کہا گیا۔مائنز ایڈوائزری گروپ میں شامل پال ہیسلوپ کا کہنا ہے کہ لیڈٰ ڈیانا کی مائن ٹریٹی میں شمولیت اوراس معاہدے پر دستخط کی تاریخوں کے قریب ان کی ناگہانی موت،،،،اس سے بہت کچھ واضح ہوجاتا ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لیڈی ڈیانا کی موت کی تحقیقات میں کیا بات سامنے آئی،،،،پیرس میں ہونے والے کار حادثے کی تحقیقات کیلئے مزید کتنے پیسے برباد کیے جائیں گے لیکن بہت سے لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ شہزادی ڈیانا کی موت کے پیچھے ڈارک فورسز کا ہاتھ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.