مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاون

مقبوضہ کشمیر کی 40 فیصد سے زائد معشیت کا انحصار باغات پر ہے جو ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتاہے اس وقت مقبوضہ کشمیر میں سیب کا موسم ہے تاہم وہاں ایک ماہ سے زائد عرصہ سے جاری لاک ڈاون اور پابندیوں سے ہزاروں ٹن پیداوار تباہ ہونےکا خدشہ پیدا ہوگیا ہےایرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹرز گزشتہ کئی ہفتوں سے سیب لوڈ کر کے مارکیٹ میں پہنچانے کے منتظر ہیں تاہم ابھی تک انہیں کامیابی نصیب نہیں ہوئی،،، کاشتکار بھی مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث مارکیٹ ریٹ سے لاعلم ہیں ،،اور خراب پرائس پالیسی ہونے کی وجہ سے حکومت کو سیب فروحت کرنے پر ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہیں
صرف یہی نہیں تاجروں کو بھارتی سیکیورٹٰی ایجنسیوں کی جانب سے سیب کی خرید و فروحت کو بھی روکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ،، ان حالات نےمقبوضہ وادی میں معیشت کے سب سےبڑے شعبے پر منفی اثرات مرتب کیے ہیںرپورٹ کے مطابق کاشتکاروں اور تاجروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مودی سرکار سے مطالبہ کیا ہے انہیں سیب فروحت کرنے کی اجازت دی جائے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.