مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اورلاک ڈاؤن کا گیارہواں روز

بھارت کے جبر کے سامنے کشمیری ڈٹ گئے ہیں، کرفیو لاک ڈاؤن سمیت ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی اقدامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ بھارت نے سیکیورٹی مزید بڑھا دی ہے۔ سری نگر سمیت کشتواڑ، پلواما اور پونچھ میں ہزاروں قابض فوجی گشت کر رہے ہیں۔ وادی میں ٹیلی ویژن، کیبل، انٹر نیٹ، موبائل اور لینڈ لائن سہولتیں بند ہیں تاہم پولیس اور حکام کو ملا کر200 کے قریب افراد کے پاس سیٹلائٹ فون موجود ہیں۔ دیگر لوگ ملٹری کی سہولتیں استعمال کر رہے ہیں۔ کشمیری اخبارات اب تک اپڈیٹ نہیں ہو سکے، اخبارات پر صرف تاریخ بدل رہی ہے، خبریں پرانی ہی ہیں، بیرونی دنیا کا وادی سے رابطہ منقطع ہے۔حریت رہنما مسلسل نظر بند ہیں۔ حریت رہنماؤں سیّد علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یٰسین ملک سمیت دیگر کو تاحال جیل میں رکھا گیا ہے۔ 900 کے قریب سیاسی رہنماؤں کومختلف جیلوں میں قید کیا گیا ہے۔ ان سیاسی رہنماؤں میں ہند نوازمحبوبہ مفتی، عمرعبد اللہ، فاروق عبداللہ، انجینئرعبدالرشید اور ساجد لون بھی شامل ہیں۔ بھارتی پولیس نے بھارتی سیاستدان شاہ فیصل کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ انہیں نئی دہلی کے ایئر پورٹ سے پکڑا گیا۔ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن اور کمیونی کیشن بلیک آؤٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈائریکٹر ساؤتھ ایشیا کا کہنا ہے کہ کشمیری قیادت گرفتار ہے، مساجد پرتالےلگا دیے گئے، مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالی معمول بن گئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.