پاکستان کی سفارتی سطح پربھارت کوایک بارپھر شکست

واشنگٹن میں امور خارجہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کانگریس مین نے جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گفتگو کی، تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر کا معاملہ امور خارجہ کی کمیٹی میں پیش ہوا اور امریکی نائب وزیر خارجہ نے کمیٹی کے سامنے حکومتی مؤقف واضح کیا۔ایلس ویلز نے کہا کہ نریندر مودی نے کشمیر کی حیثیت ختم کرنے سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا،آرٹیکل 370 کے خاتمے پر امریکا کا کوئی مؤقف نہیں ہے،تاہم امریکا مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حالت زار پر اپنا مؤقف رکھتا ہے۔انھوں نےکہا 5 اگست کےبعد سے8 ملین کشمیریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہے، کشمیرمیں حالات ابھی تک معمول پرنہیں آئے، مقبوضہ کشمیر کے 3 سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی گرفتار کیا گیا، ایلس ویلز نے کشمیریوں، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا معاملہ بھارت کے سامنے اٹھایا،اور مطالبہ کیا کہ بھارت انسانی حقوق کا احترام کریں اورمقبوضہ وادی میں حالات فوراً نورمل کیے جائیںدریں اثنا،بریڈ شیرمین نے سوال کیا کہ کانگریس مین کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیوں نہیں کرنے دیا گیا، ایلس ویلز نے جواب دیا کہ بھارت نے امریکی کانگریس مین کودورے کی اجازت نہیں دی۔انہوں نے کہا امریکا اس حوالے سے کوئی پوزیشن نہیں لےرہا، تاہم کشمیر کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔کمیٹی ممبرالہان عمرنے بھی ایلس ویلز سے سخت سوالات کیے،انھوں نے پوچھا کیا ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام کرتےہیں؟ بی جے پی کی حکومت مسلمانوں کےخلاف مہم چلا رہی ہے،آسام میں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر دی گئی،رکن کانگریس نے کہا کہ امریکا خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن کہتا ہے تو کشمیر پر خاموش کیسے ہیں،بھارت کے غیر جمہوری رویے کانگریس کمیٹی کو منظورنہیں!!!،

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: