مودی جی کا ہاتھ جوڑنا ایک بار پھر کسی کام نہ آیا

مقبوضہ کشمیر میں اٹھائے گئےغیرقانونی اقدام کے بعد رسوائی مودی سرکارکا مقدر بن گئی اور بھارت کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے،،،جبکہ نئی دہلی حکومت کی مسئلہ کشمیر کو دبانے کے تمام حربے ناکام ہوتے جارہے ہیںاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بعد یورپی پارلیمنٹ کے سامنے بھی مودی سرکار کا ہاتھ جوڑنا کام نہ آیا یورپی پارلیمنٹ کے سٹراسبرگ میں ہونے والے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر 12برس بعد بحث کی گئی جس میں 8 پارلیمانی گروپوں کے 20 سے زائد اراکین نے حصہ لیااور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو قیامت خیز قرار دیا ۔لبرل پارٹی کے اراکین نے بھارت کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئےبھارت پر واضح کیا کہ وہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دے اور یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔اجلاس کے دوران وزیر توپرائینن نے بھارت سے کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرنے کا مطالبہ کردیا ،انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں بڑی تعداد میں فوج بھیج رکھی ہے، وہاں بہت سے سیاسی کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہےگرین پارٹی کے ایم ای پی نے کہا ہے کہ بھارت کشمیری عوام کے بنیادی حقوق بحال کرے۔یورپی یونین کے اجلاس میں دیگر کئی اراکین نے بھی بھارت کے اقدامات کی مذمت کی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.