مقبوضہ وادی میں کرفیواورجبری پابندیوں کا 66واں روز

مقبوضہ وادی کشمیر میں خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے لیکر اب تک زندگی قید ہے، مسلم اکثریت والےعلاقوں میں 66 روز سے کرفیو اور جبری پابندیوں کاسلسلہ جاری ہے،مواصلات کا نظام مکمل پرمعطل ہے،قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بھی بند کر رکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔کشمیری میڈیا سروس کےمطابق وادی کی مارکیٹیں بند ہیں،اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے،سڑکیں سنسان،ٹرانسپورٹرزاپنی گاڑیاں نکالنے کےلیے تیارنہیں۔جبکہ والدین اپنےبچوں کوسکول بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں اورہسپتالوں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی جاری ہے، قابض فوج نے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر ڈالا۔ دونوں نوجوانوں کو ضلع پلوامہ میں شہید کیا گیا۔دونوں نوجوانوں کی شناخت عفید فاروق لون اور عباس احمد بٹ شامل ہیں، جنہوں نے نام نہاد ریاستی آپریشن کے دوران اونتی پورہ میں شہید کیا گیا، گندر بل، بانڈی پورہ ، کپواڑہ، بارہمولا، سرینگر، اسلام آباد، کولگام، شوپیاں، رمبن، ڈوڈا، کشتواڑ سمیت دیگر علاقوں میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے 12 روز میں متعدد نوجوانوں کو شہید کیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.