کشمیری مسلسل گھروں میں قید، 7مہینے ہونے کو ہیں

0
مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل اور بد ترین کرفیونے جنت نظی روادی کو جہنم میں بدل دیا۔ وادی میں 167 روز سے تعلیمی ادارے، دفاتراور تجارتی مراکز بھی بند ہیں، انٹرنیٹ اورموبائل فون سروس بھی تاحال معطل ہے۔ وادی میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی تک دستیاب نہیں۔موسم کی شدت اور برف باری نے کشمیریوں کی مشکلات کئی گنا بڑھا دیں۔ 80 لاکھ کشمیری بھارتی جبر سے نجات کیلئے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے اورسرچ آپریشن کی آڑ میں قابض فورسز چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر رہی ہیں۔ 5 اگست سے خواتین سمیت درجنوں کشمیریوں کو شہید،سیکڑوں بے گناہ کشمیریوں کوگرفتارکیا جا چکا ہے۔ قابض، ظالم فوج کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد کشمیری زخمی بھی ہوئے۔مقبوضہ وادی میں تمام ترپابندیوں کے باوجود آزادی کے متوالے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ وادی میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے حریت رہنماوں، کارکنوں اور زیرحراست کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اورآزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم اورحریت رہنماوں کو نظربند رکھ کرکشمیریوں کو جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے نہیں روکاجاسکتا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: