مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیواورلاک ڈاؤن کا چھٹا مہینہ

0
مقبوضہ کشمیرمیں 6 ماہ سے جاری بد ترین کرفیونے مقبوضہ وادی کو چھاؤنی بنا رکھا ہے۔ وادی میں 172 روز سے سکول، کالجز، دفاتر اور تجارتی مراکز بھی بند ہیں، انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی تاحال معطل ہے۔ وادی میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے یہاں تک کہ بچوں کیلئے دودھ بھی دستیاب نہیں ۔ادھر برف باری نے کشمیریوں کی مشکلات میں مزید بڑھا دیں۔ شدید سردی میں کشمیری بوڑھے اور بچے بیمار پڑ رہے ہیں لیکن علاج معالجے کی تمام راہیں بند ہیں۔ 80 لاکھ کشمیری بھارتی جبر سے نجات کیلئے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیرمیں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے اور قابض فورسز گھر گھر چھاپے مارکر بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کر رہی ہے۔5 اگست سے جاری کرفیو اور پابندیوں کے دوران بھارتی فوج خواتین سمیت درجنوں کشمیریوں کو شہید کرچکی ہے۔ قابض،ظالم فوج کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد کشمیری زخمی ہوئے،سینکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔مقبوضہ وادی میں تمام ترپابندیوں کے باوجود آزادی کے متوالے احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے حریت رہنماوں، کارکنوں اور زیرحراست کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم اورحریت رہنماوں کو نظربند رکھ کر کشمیریوں کو جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے نہیں روکاجاسکتا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: