“آئینہ اُن کو دکھایا تو بُرا تو مان گئے”

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ’نیا پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہے اور ہم یقینی بنائیں گے کہ بھارت کے برعکس پاکستان میں ہماری اقلیتوں کو برابری کی سطح پرمقام ملے۔ اس بیان پر بھارتیوں کا ردعمل ایسے آیا جیسے وزیراعظم عمران خان نے ان کی دُکھتی رَگ پرہاتھ رکھ دیا ہو

اور تو اور سابق بھارتی کرکٹرمحمد کیف بھی آئینہ دیکھ کرآپے سے باہرہوگئے ۔ ان کے پاس اس حقیقت کو جھٹلانے کا کوئی جواز تو نہ تھا،،پھر بھی کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق انہوں نے بیان داغا کہ ہمیں آپ سے لیکچرلینے کی ضرورت نہیں ہے

بھارت میں اقلیتوں سے کیا جانا والے سلوک کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔آئے روز گائے رکشک کے نام پر مسلمانوں کو سرعام تشدد کا نشانہ بنا کرقتل کردیا جاتا ہے ،مسیحاؤں کے گرجاگھروں کو نذرآتش کردیا جاتا ہے ۔اور تو اور اپنے ہی ہم مذہب چھوٹی ذات کے ہندوؤں کو”اچھوت” کہہ کرمندروں میں جانے سے روک دیا جاتا ہے ۔اور اگربھارتی معاشرے کی اس تفریق پرکوئی آئینہ دکھائےتوانہیں برا لگ جاتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.