جاپان کی آبادی میں مسلسل کمی،معمرافراد مزیدبڑھ گئے

رواں برس جاپانی تاریخ کی کم ترین شرح پیدائش ہوئی جس سے آبادی میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ۔ جاپانی حکومت کی جانب سے جاری اعداد وشمار میں کہا گیا ہے کہ رواں برس آبادی میں زبردست کمی ہوئی ہے۔جاپانی حکومت نے 2017 میں 3 سال سے 5 سال کی عمر کے بچوں کی تعلیم اور 2 برس سے کم عمر غریب بچوں کے لیے 18 ارب ڈالرکا پیکیج دیا تھا لیکن یہ پیکیج بھی بے سود رہا اور رواں برس کے دوران ملک کی آبادی میں نو لاکھ اکیس ہزار نفوس کی کمی ریکارڈ کی گئی جو کہ اٹھارہ سو ننانوے کے بعد سے اب تک کی کم ترین شرح ہے۔

جاپان کی آبادی میں 2017 کے مقابلے میں 25 ہزار نفوس کی کمی آئی ہے اور یہ تعداد تیسرے سال بھی 10 لاکھ کی حد کو عبور نہ کرسکی۔دوسری جانب 2018 میں اموات کی شرح نے بھی جنگ عظیم کے بعد بننے والےتیرہ لاکھ انہتر ہزار کے ریکارڈ کو چھوا جس سے آبادی میں 4 لاکھ 48 ہزار کی کمی آئی۔ جاپان کی مجموعی آبادی کا 20 فیصد 65 سال سے زائد عمر پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے جاپان کو”سُپرایجڈ” ملک قرار دیا جاتا ہے جبکہ دوہزار پینسٹھ تک ملک کی آبادی 8 کروڑ 80 لاکھ تک کم ہونے کا امکان ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.