سفارتی عملے پر ٹیکس استثنیٰ کیوں ختم کیا؟

اسرائیل کے امریکا سمیت دنیا بھر میں سو سے زائد سفارت خانے وزارت خارجہ اور خزانہ کی باہمی چپقلش کے باعث 5 دنوں سے بدستور احتجاجاً بند ہیں سفارت خانوں کی سرگرمیاں ٹھپ ہیں اور دروازوں پر ’ہڑتال‘ کے بینرز آویزاں ہیں۔اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ سفارتی عملے کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے جس کی وجہ سے ہم دنیا بھر میں سفارتی مشن بند کرنے پر مجبور ہوگئےہیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں مزید لکھا کہ سفارتی دفاتر میں قونصلر خدمات فراہم نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی کسی کو سفارتی مشن میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔ادھر اسرائیلی وزارت خزانہ نے دفتر خارجہ کے اہلکاروں پر ٹیکس ادا نہ کرنے کا الزام دھرتے ہوئے کہا کہ سفارتی اہلکاروں کو بھی عام شہریوں کی طرح ٹیکس ادا کرنا چاہیے لیکن افسوس وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.