افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،ناول نگار،داستان گو،دانشور،عظیم استاد

0
اردو ادب کے ماتھے کا جھومر،مایہ ناز افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،ناول نگار، داستان گو اور عظیم استاد اشفاق احمد کو دنیا سے رخصت ہوئے 16 برس بیت گئے ۔ پچاس برس تک اپنے قلم سے بے شمار شاہکار تخلیق کرنے والے اشفاق احمد 22 اگست 1925ء کو بھارتی شہر فیروز پور میں پیدا ہوئے۔تقسیم ہند سے تھوڑا عرصہ قبل وہ پاکستان چلے آئے اور لاہور میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔۔ 1965ءمیں انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے ہفتہ وار فیچر پروگرام” تلقین شاہ ” شروع کیا جو اتنا مقبول ہوا کہ تیس سال سے زائد تک آن ائیررہا۔ ٹی وی پر ان کی دو پنجابی سیریلز "ٹاہلی دے تھلے اور” اچے برج لہور د” بہت مقبول ہوئیں اس کے علاوہ”بیٹھک“ اور ”زاویہ“پروگرامز کو بھی لوگوں میں بے حد پسند کیا گیا۔
اشفاق احمد افسانہ نگاری میں کمال رکھتے تھے، ان کی تصنیفات میں”ایک محبت سو افسانے‘ اجلے پھول ، گڈریا‘ ایک ہی بھول‘ طلسم ہوش ربا‘ سفر مینا‘ کھیل تماشا‘ سفردر سفر‘بابا صاحبا‘ زاویہ‘ من چلے کا سودا‘ بند گلی‘ طوطا کہانی‘ ایک محبت سو ڈرامے‘ ننگے پاؤں ‘ حیرت کدہ ‘اور کئی دوسری کتابیں شامل ہیں۔ اشفاق احمد نے بطورمصنف و اداکار فیچر فلم "دھوپ اور سائے” بنائی لیکن بدقسمتی سے یہ باکس آفس پر چل نہ سکی۔انیس سو اناسی میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ اشفاق احمد 7 ستمبر 2004ءکودنیائے فانی سے کوچ کرگئے لیکن اردو ادب میں ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: