!!!امریکااورایران ایک بارپھرآمنےسامنے

عالمی جوہری معاہدے کے تحت ایران پرجوہری موادکی افزودگی پرپابندی عائد تھی،،،تاہم ایران نے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی دوبارہ افزودگی شروع کردی،،،ایرانی جوہری پلانٹ کےسربراہ علی اکبر صلیحی کا کہنا ہےکہ ایران 5 فیصد افزودگی میں اضافہ کرے گا،جوجوہری تابکاری کے لیے مناسب ہےدوسری جانب ردعمل میں امریکی حکام کے ترجمان مورگن اورٹگس کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے اقدامات کوئی نئی بات نہیں،ایسا ممکن تھا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے جوہری مواد کی افزودگی میں اضافہ خطرے کا باعث بنےگا، یہ اقدام تہران حکومت کی جانب سے بڑی غلطی ہوگی۔رواں سال جولائی میں یورپی یونین نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ فوری طور پر یورینیم افزودگی بڑھانے کا سلسلہ روک دے اورماضی میں کیے گئے معاہدے کی پاس داری کرے۔2015 میں ایران نے 6عالمی قوتوں کےساتھ معاہدہ کیاتھا۔معاہدے پرایران ،امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، چین اور روس نے دستخط کیے تھے جس کے تحت ایران کےشہرقُم کے قریب واقع ایک پلانٹ فردو میں جوہری سرگرمی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.