مغربی کنارے کے اسرائیل میں انضمام کے بعد زمین کی قیمتوں میں اضافے کاامکان

0
اسرائیل میں فلسطین کے مغربی علاقوں کا انضمام جہاں فلسطینیوں کی بقا کا مسئلہ بنا ہوا ہے وہیں کچھ لوگوں کے لیے یہ انضمام ان کے مستقبل کو روشن اور کاروبار کو چمکانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔کچھ ایسا ہی معاملہ اسرائیلی یہودی بستی ایریل کی رہائشی پیری بین سینور کا بھی ہے جو فلسطین کے مغربی کناروں کے اسرائیل میں انضمام کی بے صبری سے منتظر ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ان کے پراپرٹی کے کاروبار کے لیے سودمند ثابت ہو گا۔خبر رساں ادارے کے مطابق 20 ہزار سے زائد آبادی کے حامل علاقے ایریل میں یونیورسٹی اور شاپنگ سینٹرز بھی قائم کیے جائیں گے اور اس کا شمار ان چند یہودی بستیوں میں ہوتا ہے جو فلسطینی علاقوں کے انضمام کے پہلے مرحلے میں اسرائیل میں شامل کی جائیں گی۔رواں برس جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع امن منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے لیے امریکا نے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی اور اس کے علاوہ ان یہودی بستیوں کے بھی اسرائیل میں انضمام کا وعدہ کیا تھا جو عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دی جا چکی ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: