بھارتی سائنسدان جھوٹے دعوؤں میں مودی کے نقشِ قدم پر

0
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر بلرام بھرگاوا نے کرونا ویکسین 15 اگست تک تیار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کو ویکسین” نامی دوا کے تمام انسانی ٹرائل مکمل کرلیے جائیں گے جس کے بعد یہ ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔عالمی ادارہ صحت نے اتنی جلدی ویکسین کی تیاری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری کے لیے پہلے سے طے شدہ مراحل کو پورا کرنا اور معیار کو برقرار رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے جو اتنی قلیل مدت میں ممکن نہیں۔ادھر بھارتی طبی ماہرین نےبھی اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیار پر سودے بازی قبول نہیں کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی ویکسین کی تیاری اور ٹرائل کے لیے تین مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے جس میں مجموعی طور پر ایک سال اور تین ماہ کا وقت لگتا ہے اس کے بعد ویکسین مارکیٹ میں آنا شروع ہوتی ہے۔دوسری جاب مودی سرکار کی ناقص کارکردگی کے باعث بھارت میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد 6 لاکھ 73 ہزار سے زائد ہوچکی ہے جس کے بعد بھارت دنیا میں کرونا سے چوتھا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: