“جیسا دیس ویسا بھیس”

کیا آپ جانتے تھے کہ ہندو دھرم کے اواتار”دشواترا” ڈارون تھیوری سے بھی پہلے موجود تھے۔ اور یہ کہ بادشاہ کورو کی اولاد ”کورواس” ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی سے پیدا ہوئی۔ آپ جان بھی کیسے سکتے ہیں کیوں کہ یہ تو ہیں ہندو دیش کی نت نئی دریافتیں۔ ایسی ہی کئی دریافتیں اور ایجادات دنیا کو بتانے کیلئے بھارتی شہر جالندھر میں ہوئی 106 ویں سائنس کانفرس جس میں بھارتی سائنسدانوں اور پروفیسرز نے کیے بڑے بڑے دعوے اور جھوٹا قرار دے دیا ماضی کے کئی نامور سائنسدانوں کو۔ انہوں نے متعدد سائنسی ایجادات اور نظریات ہندو دھرم کے قدیم کرداروں سے جوڑ دیئے کہ اصل میں وہ خالق ہیں۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ بھارتی سائنسدانوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ راون کے پاس مختلف شکلوں اور جسامت کے کئی جہاز تھے۔ کانفرنس میں کشش ثقل کو ”نریندرمودی لہریں” اور لینزنگ ایفیکٹ کو ”ہرش وردھان افیکٹ” کا نام دیا گیا۔ آئن سٹائن اور نیوٹن کے نظریات بھی غلط قرار دے دئیے گئے۔

تامل سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کنان جیگاتھلا کرشنان نے دعویٰ کیا کہ جدید فزکس صرف مختصر دور کے لئے ہے اور یہ مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خلا سورج سمیت دیگرسب سیاروں پر بھاری ہے۔ ان کے دیوتا رام ”استراس” اور ”شاستراس” ہتھیار استعمال کرتے تھے جو ہدف کا پیچھا کرکے اسے نشانہ بناتے تھے۔ اب جدید دور میں یہ گائیڈڈ میزائل کہلاتے ہیں اور یوں رام اور کرشنا گائیڈڈ میزائل استعمال کیا کرتے تھے۔

بھارتی سیاستدانوں تو پہلے ہی الٹی سیدھی حرکتوں کے باعث خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ اب سائنسدانوں اور یونیورسٹی پروفیسروں نے بھی سائنس کے ایسے مضحکہ خیز دعوے کر کے خود کو تنقید کے لیے پیش کر دیا۔ سوشل میڈیا پر انہیں آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے کہ یہ سائنس کانفرنس ہے یا کامیڈی شو۔ حالیہ ایک فہرست کے مطابق دنیا کے چوٹی کے چار ہزار سائنسدانوں میں بھارت کے صرف دس سائنسدانوں کا ذکر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.