بھارت کی مسلم دشمنی انتہا پر

بھارتی شہر کام روپ ضلع کے بوکو پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع گاؤں کولوہیکاش کے رہائشی محمد ثناء اللہ کو غیرملکی قرار دیے جانے کے بعد انہیں اہل خانہ سمیت حراستی مرکز منتقل کر کے نظر بند کردیا گیا۔ٹریبونل کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ثناء اللہ 25 مارچ 1971 سے قبل اپنے ہندوستانی ہونے کا ثبوت دیں اور یہ بھی شواہد فراہم کریں کہ وہ بھارت کے کس علاقے میں پیدا ہوئے؟۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ثناء اللہ 52 سال کی عمر میں اگست 2017 میں فوج کے ای ایم ای کور میں صوبیدارکے عہدے سے مستعفیٰ ہوئے تھے۔ انہوں نے ٹریبونل کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ وہ جموں کشمیر اور بھارت کے شمال مشرق حساس علاقوں میں تعینات رہے، رہائش منتقلی کی وجہ سے اُن کے پاس پیدائشی سرٹیفکٹ نہیں ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ثناء اللہ نے کہا کہ ٹربیونل کے فیصلے سے ان کا دل ٹوٹ گیا، انہوں نے ایمانداری کے ساتھ ملک کی خدمت کی جس کے بدلے میں انہیں غدار کہہ کر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی فوج میں 30 سال تک انجینئرنگ محکمے کے ایک افسر کے طور پر خدمات انجام دیں اور 2014 میں صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا کیا گیا۔ثناء اللہ کی بیٹی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد عدالت کو رائےدہندگان کارڈ اورآبائی جائیداد کے دستاویز ثبوت کے طور پر پیش کر چکے ہیں۔ سابق فوجی افسر کے اہل خانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ٹریبونل کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چلینج کریں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.