بھارت میں متنازعہ قانون کیخلاف احتجاج میں شدت

0
انڈیا میں شہریت کے قانون میں ترمیم کے خلاف شروع ہونے والے پر تشدد احتجاج کا دائرہ ہر نئے روز کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے۔ آسام، بنگال اور دہلی سے ہوتا ہوا یہ احتجاج انڈیا کے کاروباری مرکز سمجھے جانے والے شہر ممبئی تک پہنچ چکا ہے ۔مظاہرین اور حکومت کے درمیان جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔آر ایس ایس کی لٹھ بردار ریلیاں آزادی مانگنے والوں کو گولی مارنے کے نعرے بلند کرنے لگیں ۔مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 27 ہو گئی جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو ئے ہیں اور سینکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مظاہرین نے مودی کی رہائش گاہ جانے کی کوشش کی جسےناکام بنا دیا گیا ۔بھارتی پولیس اور آر ایس ایس کے غنڈے بے لگام ہو گئے ،،،نمازہ ادا کرنے والے مسلمانوں کو بھی نہ چھوڑا،،گھر میں داخل ہو کر مسلم نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اتر پردیش میں پولیس مسلمانوں کو چن چن کر تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی اداکارہ سوارہ بھاسکر بھی ظلم کیخلاف بول پڑی،،اداکارہ کا کہنا ہے کہ یو گی ادیتیا ناتھ کی حکومت کیخلاف جوڈیشل انکوائری کرانے جائے۔یوگی آدتیہ ناتھ حکومت مودی سے بھی 4 ہاتھ آگے نکلی،، مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس نے جو گولیاں چلائیں اور لاٹھیاں توڑی ان کا خرچہ مظاہرین سے وصول کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ 498 افراد کو پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے نوٹس جاری کر دیے گئے،،پولیس جیپ کو آگ لگائی گئی تھی جس کے عوض مظاہرین سے ساڑھے 7 لاکھ روپے وصول کیے جائیں گے علاوہ ازیں وائر لیس سیٹ ، لاﺅڈ سپیکر ، ہوٹر توڑنے پر 31 ہزار 500 روپے اور پولیس بیریگیڈ توڑنے پر ساڑھے 3 لاکھ روپے وصول کیے جائیں گے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: