"کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا”

0
بھارتی شہر جالندھر کے ایک گاؤں میں 15 جون 1927ء کو پیدا ہونے والے ابن انشاء کا اصل نام شیر محمد تھا۔ ریڈیوپاکستان سمیت کئی سرکاری اداروں سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے کچھ عرصہ اقوام متحدہ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور اس دوران کئی یورپی و ایشیائی ممالک کے دورے کئے۔انشاء جی نے جہاں اردو نظم ، غزل، کہانیوں، ناول، افسانوں، سفر ناموں، کالم نگاری ، تراجم ،بچوں کے عالمی ادب ، مکتوبات اور دیگر ادبی اصناف پر کام کیا ۔ ان کے کلام کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ ان کے اشعار گیت و غزل انسانی جذبات کے قریب تر ہوکر دل کے تار کو چھولیتے۔چاند کسے پیارا نہیں لگتا؟ لیکن انشا پر تو چاند نے جادو سا کر رکھا تھا.جس کے باعث ان کے اشعار میں کافی جگہ چاند کا حوالے ملتا ہے۔
اے دل والو گھر سے نکلو دیتا دعوت عام ہے چاند
شہروں شہروں قریوں قریوں وحشت کا پیغام ہے چاند
اور
کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا ترا
تصنیفات میں چاند نگر، دلِ وحشی ، اس بستی کے اک کوچے میں ، آوارہ گر د کی ڈائری ، دنیا گول ہے ، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہیں تو چین کو چلئے ، نگری نگری پھرا مسافر، خمارِ گندم ، اردو کی آخری کتاب اور خط انشا جی کے شامل ہیں۔
استاد امانت علی کی گائی ہوئی معروف غزل ” انشا جی اٹھو اب کو چ کرو” کے خالق ابن انشا تھے۔
ابھی ادب و فن کے متلاشی ان کی صلا حیتوں سے پوری طرح استفادہ بھی نہ کرسکے تھے کہ گیارہ جنوری انیس سو اٹھتر کو انشا جی کو دنیا سے کو چ کرگئے، کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: