جرمن فوج انتہا پسندی میں‌ ملوث،تہلکہ خیز انکشاف

0
فیڈرل جرمن آرمی کی کاؤنٹرانٹیلیجنس کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق جرمن فوج میں ساڑھے پانچ سو فوجی مبینہ طور پر دائیں بازو کی انتہا پسندی کی جانب راغب پائے گئے، ان تمام اہلکاروں اور افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔رپورٹ کے مطابق جرمنی میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ واقعات بھی اسی سوچ کا شاخسانہ ہیں۔ یہ رپورٹ جرمن اخبار ‘بِلڈ اَم زونٹاگ‘ میں شائع ہوئی۔ کاؤنٹر انٹیلیجنس سروس کے سربراہ کرسٹوف گرام نے اخبار بِلڈ اَم زونٹاگ کو بتایا کہ گزشتہ برس دائیں بازو کی انتہا پسندی سے جڑے تین سو ساٹھ واقعات درج کیے گئے جن میں 14 فوجی ملوث تھے جن کے خلاف کارروائی کرکے انہیں سزائیں سنائی گئیں جبکہ مزید آٹھ فوجی دائیں بازو کی انتہاپسندی کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔کرسٹوف گرام کا کہنا تھا کہ فوج کے چالیس اہلکار ایسے بھی ہیں، جو ملکی دستور کی اقدار کو پیش نظر رکھنے میں ناکام رہے ، ایسے افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کا مقصد فوج میں انتہا پسندوں کو ملازمتوں سے صرف فارغ کرنا اور اُن کے ساتھیوں کو سامنے لانا ہے تاکہ آئین کی بالادستی قائم رہ سکے۔سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ فوج میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کی جانب جھکاؤ رکھنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور آرمی کے دیگر شعبوں کے مقابلے میں اسپیشل یونٹ یہ تعداد پانچ گنا زیادہ تھی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: