مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ کی حراست میں توسیع

0
کالے قانون کے تحت نیشنل کانفرنس کے رہنماعمر عبداللہ اور پی ڈی پی کی رہنماء محبوبہ مفتی کو عدالت میں پیش کئے بغیر دوسال تک قید رکھا جاسکتا ہے۔ دونوں سابق وزرائے اعلیٰ گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کےخاتمے کے بعد سے غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کا ساتواں مہینہ شروع ہو چکا ہے اور 188روز بھی لاک ڈاؤن برقرار ہے،جنت نظیر وادی کوبھارت نے جہنم بنادیا۔تعلیمی ادارےاورتجارتی مراکزتاحال بند ہیں۔کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے،دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید کشمیری مسلسل ظلم وستم سہنے پرمجبور ہیں۔ سری نگرسمیت تمام بڑے شہروں میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موبائل فون اورانٹرنیٹ سروس معطل ہونے سے کشمیریوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی نئی داستان رقم ہو رہی ہے۔ کشمیری وادی کے اندر ہی سسک سسک کے دم توڑنے لگے ہیں۔ 188 روز کے طویل کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر میں اشیا خوردونوش، ادویات کی کمی پیدا ہو گئی اور وادی کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دنیا بھر میں مودی سرکار کے اقدامات کی مذمت کی جارہی ہے اورکشمیریوں سمیت امن پسند لوگ مودی سے وادی سے کرفیو کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

https://youtu.be/otOa9bV6qTw

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: