مواد کی نگرانی کیلئے فیس بک نے "سپریم کورٹ” تشکیل دیدی

0
فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے نومبر 2018 میں اعلان کیا تھا کہ ویب سائٹ مواد کی نگرانی کے حوالے سے ایک آزاد باڈی کا قیام عمل میں لائے گی اور اب فیس بک نے 18 ماہ بعد اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے 40 رکنی باڈی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے اس کے ابتدائی 20 ارکان کے ناموں کا اعلان بھی کردیا۔
فیس بک کی جانب سے مواد کی نگرانی کے لیے تشکیل دی گئی باڈی کو سوشل ویب سائٹ کی ’سپریم کورٹ‘ کہا جا رہا ہے اور یہ باڈی عدالت کی طرح ہی کام کرے گی اور اس باڈی کے فیصلوں کو تسلیم کرنا ویب سائٹ کے لیے لازم ہوگا۔ فیس بک کی ’سپریم کورٹ‘ قوائد و ضوابط میں رہتے ہوئے آزادانہ طور پر ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گی اور یہ فیصلہ کرے گی کہ کس طرح کے مواد کو ویب سائٹ پر شائع کیا جائے اور کس طرح کے مواد کو روکا جائے۔
فیس بک کی ’سپریم کورٹ‘ کے ابتدائی 20 ارکان میں یمن کی انسانی حقوق کی کارکن، صحافی اور نوبل انعام یافتہ خاتون توکل کرمانی، یورپی ملک ڈنمارک کی سابق وزیر اعظم ہیلے تھارننگ سکمدت، سابق امریکی فیڈرل کورٹ کے جج مائیکل مکنول، برطانوی اخبار دی گارجین کے سابق ایڈیٹر ایلن رسبریجر اور کولمبیا کی ماہر تعلیم کیٹالینا بوتیرو سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے 20 سیاستدان، ماہر قانون، ماہر تعلیم، ادیب، صحافی و انسانی حقوق کے علمبردار شامل ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ باڈی عام افراد کی جانب سے فیس بک اور انسٹاگرام پر شائع کیے جانے والے مواد سے متعلق غور کرے گی اور یہ باڈی یہ دیکھے گی کہ عام صارفین کی جانب سے کس طرح کے مواد کو شیئر کیا جا سکتا ہے اور کس طرح کے مواد کو روکا جاسکتا ہے ۔دوسرے مرحلے میں یہ باڈی حکومتوں، ریاستوں و اداروں کے مواد پر نظر ثانی کرے گی اور پھر مذکورہ باڈی فیس بک کو اپنی سفارشات پیش کرے گی ۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: