کرونا وائرس کےعلاج میں بڑی پیشرفت

0

برطانوی خبر رساں ادارے ’’بی بی سی‘‘ کےمطابق برطانوی ماہرین نےتشویش ناک مریضوں کی جان بچانے والی دوا تلا ش کرلی ہے، "ڈیکسا میتھا سون” سستا اسٹیرائڈ ہےجوتشویشناک مریضوں کی صحتیابی میں مدد دیتا ہے،خبر رساں ادارے کےمطابق "ڈیکسا میتھا سون "استعمال سے وینٹی لیٹر پرموجود مریضوں کی شرح اموات 40 فیصد تک کمی ہوئی، دوا کےاستعمال سے آکسیجن لگےمریضوں کی شرح اموات میں 20سے 25 فیصد کمی ہوتی ہے۔
بی بی سی کےمطابق تجربات کی سربراہی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے کی، برطانیہ کے ہسپتالوں میں داخل 2 ہزار کرونا کےمریضوں پردوا کے استعمال کا جائزہ لیاگیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق "ڈیکسا میتھا سون ” کا استعمال وبا کے آغاز میں کیا جاتا تو 5 ہزار زندگیاں بچانےمیں مدد ملتی، دوا کرونا کےصرف تشویشناک مریضوں پرموثر ہے،معتدل مریضوں پرموثر نہیں ہے،خبررساں ادارے کے مطابق "ڈیکسا میتھا سون ” دمہ اور آرتھرائٹس کےعلاوہ متعدد امراض کے علاج میں استعمال ہوتی ہے،برطانیہ میں دوا کی قیمت صرف پانچ پاؤنڈز (تقریباً ایک ہزار روپے) ہے، دوا 1960 سےدنیا میں زیراستعمال ہے
پروفیسرلینڈرے کا کہنا ہےکہ اگرمناسب ہوتوہسپتالوں میں مریضوں کو یہ دوا دی جاسکتی ہے، تاہم لوگوں کو خود سے یہ دوا گھروں میں نہیں کھانی چاہیے،ڈیکسامیتھازون ان لوگوں کے لیے فائدہ مند نہیں جن میں کرونا وائرس کی علامات شدید نہیں ہیں اورانھیں سانس کی تکلیف بھی نہیں،برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکاک نے ان نتائج کے بارے میں ٹویٹ کی کہ دنیا کی یہ پہلی مثال سائنس کی طاقت کامظاہرہ ہے،میں بےحد خوش ہوں کہ ہم کووڈ 19 کےعلاج کی پہلا کامیاب ٹرائل کا اعلان کرسکتےہیں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: