متنازع شہریت قانون مودی حکومت کا اپنے شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ

0
یہ قرارداد آبائی طور پر آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے برطانوی ایم ای پی شفق محمد نے دیگر ممبران پارلیمنٹ کے تعاون سے پیش کی۔ قرارداد میں انسانی حقوق کے عالمی قوانین، یورپین قوانین، سماجی اور سیاسی حقوق کے بارے میں مختلف کنونشنز اور خود بھارتی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب سے اس پر بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں ان متنازعہ قوانین کا پس منظر بیان کرنے کے بعد ان کے خلاف بھارت بھر میں ہونے والے مظاہروں کا ذکر ہے،جس میں اب تک 27 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 175 زخمی اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اس کے علاوہ ریاستی اداروں کے بہیمانہ تشدد کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔قرارداد میں بھارتی حکومت کی جانب سے ان قوانین کی منظوری پر ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جنہوں نے اسے امتیازی اور غیر قانونی قرار دیا۔قرار داد پر پارلیمنٹ میں موجود جن اراکین نے دستخط کیے ان میں ایرینا فون ویزے، پیٹراس آسٹری ویئی یوس، کیتھرین بیئرڈر، فل بینیئن، کیتالین چیک، کرس ڈیوس، باربرا گبسن، چارلس گوئیرنس، مارٹن ہارووڈ اور مورٹز کورنر شامل ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: