کرونا کے باعث میٹھی عید کی مٹھاس کم نہ ہو سکی

0
رمضان المبارک کا اپنا ہی رنگ اور مزہ ہے جس میں لوگ روزے رکھتے،عبادات کرتےاورسحری و افطار کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ جب نصف رمضان گزرجاتاہےتوکپڑوں،جوتوں،جیولری اوردیگر چیزوں کی خریداری کےساتھ عیدکےاستقبال کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہےاورپھریکم شوال کو ہر طرف عید کی خوشیوں کے رنگ بکھرجاتے ہیں۔ کہیں مہندی کی خوشبو تو کہیں چوڑیوں کی کھنکھناہٹ، کہیں شوخ رنگوں والے لباس تو کہیں لبوں پرپھیلی مسکراہٹیں۔عیدالفطر امت مسلمہ کیلئے بڑی خوشی کا تہوار ہے اور اس دن کا آغاز نمازِ عید سے ہوتا ہے جس کے بعد ایک دوسرے کو گلے مل کر مبارکباد دی جاتی ہے لیکن اس بار کی عید کچھ مختلف ہے کیونکہ کرونا سے سب کچھ بدل ڈالا ہے اور لوگ گلے ملنے کے بجائے دور سے ہی ایک دوسرے کو مبارکباد دینے پر اکتفا کررہے ہیں۔
گو کہ اس بار کرونا کے باعث میٹھی عید کے رنگ پھیکےپڑگئے لیکن عالمی وبا لاکھ کوشش کے باوجود میٹھی عید کی مٹھاس کم نہ کرسکی اور لوگ عیدالفطر پر اپنے پیاروں کے ساتھ مختلف پکوانوں کے ساتھ اس تہوار سےلطف اندوز ہورہے ہیں۔ کہیں روایتی سویاں دسترخوان کی زینت بنیں اور کہیں شیر خورمے کا اہتمام کیا گیا اس کے علاوہ کھیر، شاہی ٹکڑے، گلاب جامن اور رس ملائی نے عید کی مٹھاس بڑھائی

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: