جدید ٹیکنالوجی نےزندگی توآسان کی لیکن احساسات وجذبات چھین لئے

0
عید خوشیوں کا تہوار اور اس کی آمد کا اعلان صرف چاند رات کو رویت ہلال پر موقوف نہیں بلکہ اس تہوار سے جڑی کئی روایات ایسی ہیں جو کئی ہفتے قبل سے پتا دینے لگتی ہیں کہ عید کی آمد آمد ہے۔
ان میں ایک خوبصورت روایت عید کارڈ دینے کی بھی ہے
عید کارڈز کی فروخت کے لیے مارکیٹوں میں خصوصی سٹالوں کے ساتھ ساتھ ترسیل کے لیے محکمہ ڈاک خصوصی انتظامات کرتا تھا۔ اب صورتحال بہت بدل گئی ہے، روایتی عید کارڈز کی جگہ برقی پیغامات، ای کارڈز اور ایس ایم ایس نے لے لی ہے جبکہ عید کارڈزکے ذریعے مبارک باد کی روایت سوشل میڈیا کے دور میں گم ہوکر رہ گئی ہے۔
ماضی میں عید کی آمد کے موقع پر اپنے پیاروں کو خوشیوں بھرے نیک پیغامات بھجوانے کے لیے عید کارڈز کا سہار ا لیا جا تاتھا اور رمضان المبار ک کی آمد کے ساتھ شہرکے تمام بڑے چھوٹے بازاروں اور گلی محلوں میں بھی عید کارڈ ز کے سٹال سج جاتے تھے جہاں مختلف دیدہ زیب ڈیزائن والے عید کارڈز دستیاب ہوتے تھے
خانہ کعبہ اور گنبد خضرہ کی شبیہہ والے کارڈز ہاتھوں ہاتھ بکتے
اور خوبصورت پھولوں کے رنگوں میں رنگےعید کارڈزکوبھی خوب پذیرائی ملتی جبکہ بچوں کیلئے خصوصی طور پر چھوٹے چھوٹے عیدکارڈز بھی سٹالز کی زینت ہوتے اس کے علاوہ فلمی اداکاروں اورکھلاڑیوں کی تصاویر والے کارڈز بھی بڑی تعداد میں فروخت ہوتے تھے۔
عید کے دنوں میں محکمہ ڈاک کا کام بھی معمول سے بڑھ جاتا تھا اور انہیں عوام الناس کے لیے باقاعدہ ہدایت نامہ جاری کرنا پڑتا کہ بروقت عید کارڈز کی ترسیل کے لیے فلاں تاریخ تک عید کارڈ سپرد ڈاک کر دئیے جائیں۔ کاروباری نقطہ نظر سے بھی یہ ایک نفع بخش کام سمجھا جاتا تھا اورسینکڑوں پبلشرز اور لاکھوں افراد اس انڈسٹری سے وابستہ تھے ۔
اب عید سمیت دیگر تہواروں پر سوشل میڈیاکےذریعےایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی ہے ۔اس سے نہ صرف کئی دہائیوں پرانی روایت دم توڑ گئی بلکہ لاکھوں افراد کو وسیلہ بھی ختم ہوگیا ہے ۔ اس کے علاوہ عید کارڈز بھیجنے کے رجحان میں کمی سے جہاں تاجروں کو نقصان پہنچا ہے وہیں محکمہ ڈاک کی عید کے موقع پر ہونے والی آمدنی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: