ایک ہزار یورپی قانون سازوں کا اسرائیل سے فلسطینی علاقوں کو ضم نہ کرنے کا مطالبہ

0
25 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد یورپی قانون سازوں نے تل ابیب پر زور دیا کہ اسرائیل،فلسطین میں مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو ضم کرنے کی منصوبہ بندی کو ترک کردے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اخباروں میں شائع ہونے والے اور یورپی وزرائے خارجہ کو بھیجے گئے ایک خط میں ایک ہزار 80 قانون سازوں نے کہا کہ وہ ‘اسرائیل کی جانب سے اس عمل کے نتیجے میں بین الاقوامی تعلقات پر اثرات کے بارے میں سخت پریشان ہیں’۔مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ‘یہ اقدام اسرائیل فلسطین امن کے امکانات کے لیے مہلک ثابت ہوگا’۔
یورپی یونین کے قانون سازوں نے کہا کہ ‘افسوسناک امر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ بین الاقوامی سطح پر متعین اصول و ضوابط سے منافی ہو گیا ہے’۔خط میں 3 مرتبہ امریکی صدر کا حوالہ دیا گیا لیکن اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے بارے میں براہ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا، جو اب بھی فیصلہ کریں گے کہ فلسطین کا کس حد تک علاقہ ضم ہونا چاہیے۔
قانون سازوں نے اسرائیل اور فلسطین تنازع کے پرامن حل کے لیے یورپ کے طویل مدتی وعدوں کی تعریف کی اور کہا کہ ‘ہم یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس چیلنج کے جواب میں فیصلہ کن انداز میں عمل کریں’۔انہوں نے کہا کہ ‘یورپ کو بین الاقوامی اداکاروں کو ساتھ مل کر اسرائیلی منصوبے کو روکنے کی کوشش میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے’۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: