امریکی حکومت کا 16 برس بعد سزائے موت شروع کرنیکا اعلان

امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ابتدائی طور پر سزائے موت کے منتظر پانچ قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد کی تیاریاں کرے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پانچ قیدی بچوں سے جنسی زیادتی، خواتین اور معمر افراد کے قتل کے جرم میں سزائے موت پاچکے ہیں اور انہیں دسمبر 2019 اور جنوری 2020 کے دوران موت کے گھاٹ اتاردیا جائے گا۔محکمہ انصاف کی جانب سے اس اعلان کے بعد اب امریکا میں وفاقی سطح پر سزائے موت پر 2003 سے عائد غیر اعلانیہ پابندی ختم ہوگئی ہے۔ 2003 میں آخری بار جنگِ خلیج میں شرکت کرنے والے فوجی 53 سالہ لوئی جونز کو سزائے موت دی گئی تھی جس پر 19 سالہ خاتون سپاہی ٹریسی جوئے مک برائیڈ کو اغواء اور قتل کرنے کا الزام تھا۔ان پانچوں کو سزائے موت امریکی ریاست انڈیانا کے ٹیرا ہوٹ اصلاحی قید خانے میں دی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ مزید قیدیوں کو آنے والی تاریخوں میں سزائے موت دی جائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کو انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے تاہم اس سے امریکا میں کوئی سیاسی ہلچل نہیں ہوگی کیوں کہ امریکیوں کی اکثریت مخصوص حالات میں سزائے موت کی حامی ہے۔امریکا میں 1972 میں سپریم کورٹ نے وفاق اور ریاستی سطح پر سزائے موت پر پابندی عائد کردی تھی تاہم 1988 میں اسے بحال کردیا گیا تھا۔ امریکا میں اس وقت مجموعی طور پر2 ہزار 673 قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.