کرونا وائرس چین سے نہیں یورپ سے پھیلا؟

0

سپین کے طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بارسلونا میں گزشتہ مارچ میں جمع کئے گئے نکاسی آب کے نمونوں میں نوول کرونا وائرس کو دریافت کیا تھا ۔ یعنی چین کے شہر ووہان میں کووڈ 19 کے پھیلنے سے 9 ماہ قبل یہ وائرس اس شہر میں موجود تھا۔
محققین نے بارسلونا میں رواں سال 15 جنوری کو لیے گئے نکاسی آب کے نمونوں میں بھی کرونا وائرس دریافت کیا تھا جبکہ سپین میں کووڈ 19 کا پہلا آفیشل کیس 6 ہفتے بعد فروری کے آخر میں سامنے آیا تھا۔
بارسلونا یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم نے نکاسی آب کے نمونوں کو پی سی آر کرونا وائرس ٹیسٹ کے ذریعے جانچا،، پروفیسر البرٹ بوسک کا کہنا ہے کہ اگر وائرس کا سراغ ایک ماہ پہلے لگ جاتا تو وبا کے حوالے سے ردعمل بھی بہتر ہوسکتا تھا۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے اٹلی کے ماہرین کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک کے 2 بڑے شہروں میں کم از کم دسمبر میں ہی کرونا وائرس پہنچ چکا تھا۔ اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں سوریج کے پانی کے تجزیے کے بعد یہ دریافت کیا گیا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: