سعودی آئل تنصیبات پر حملے:چین اور روس بھی میدان میں آگئے

چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کو اس معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔چین کی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جامع تحقیقات کے بغیر الزام عائد کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے اور چین کشیدگی کو بڑھانے والے تمام اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خطے سے باہر کے ممالک سعودی آئل تنصیبات حملوں پر جلد بازی میں نتیجہ نہ نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں زیرِ بحث سخت جوابی رد عمل کی تجاویز ناقابل قبول ہیں لہٰذا خطے اور باہر کے ملک ایسے اقدامات سے باز رہیں جن سے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچے۔روسی وزرات خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے تناظر میں غیرتعمیری اقدامات نقصان دہ ہوں گے۔چند روز قبل سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری آرامکو کے عبقیق اور خریص پلانٹوں پر ڈرون حملے کئے گئے تھےجس کی ذمہ دراری حوثی باغیوں نے قبولی تھی تاہم امریکا نے ان حملوں میں براہ راست ایران کو ذمہ دار قرار دے دیاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ ایران ہی سعودی آئل تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہے جبکہ تاہم ایران نے امریکا کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایسے الزامات لگا کر ایران پر کارروائی کا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.