بیجنگ اور واشنگٹن میں ہانگ کانگ کے معاملے پر نوک جوک کا سلسلہ جاری

0
ترجما ن چینی وزارت خارجہ ہووا چنیونگ نےکہا کہ اس قانون کے ذریعے ہانگ کانگ اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو جواز فراہم کرنا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘چین کی حکومت اس اقدام کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور امریکا کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتی ہے’۔چین کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘خصوصی انتظامہ خطے کے طور پر ہانگ کانگ کا انضمام اور عوامی جمہوریہ چین کا قومی تحفظ کا قانون نافذ ہے، جس میں چین کے آئین کی متعلقہ شقیں اور ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت کا حامل بنیادی قانون شامل ہے۔چینی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ آئین متقفہ طور پرہانگ کانگ کے شہریوں سمیت تمام چینیوں کے لیے ہے جنہوں نے اس کی توثیق کردی ہے اورہانگ کانگ چین کا خصوصی انتظامی خطہ ہے۔امریکی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہانگ کانگ کے معاملات چینی کا اندرونی معاملہ ہے، کسی بھی دوسرے ملک کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘چین، ہانگ کانگ کی خود مختاری، سلامتی، تحفظ اورخوشحالی کو بہترین طریقے سے برقرار رکھتا ہے اورہانگ کانگ کے معاملات میں بیرونی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ہووا چنیونگ کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کی جانب سے ہانگ کانگ کے قومی سلامتی قانون پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کرنے کا اقدام کبھی کامیاب نہیں ہوگا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں کو درست کرے، نام نہاد ہانگ کانگ خودمختاری ایکٹ کو نافذ نہ کرے اور کسی بھی طریقے سے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے’۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: