ہانگ کانگ کے عہدیداروں پر پابندی کا ردعمل

0
چین نے امریکی سینیٹرز اور این جی او سربراہان سمیت 11 امریکیوں پر پابندیاں لگائیں جن میں امریکی سینیٹر مارکو روبیو، ٹیڈ کروز اور ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر کینتھ روتھ شامل ہیں۔ دیگر اعلیٰ عہدیداروں میں نیشنل انڈوومنٹ فار ڈیموکریسی، نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ، انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ کے صدور اور ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور فریڈم ہاؤس کے صدر شامل ہیں، جن پر چین نے پابندی لگادی ہے۔چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ کے معاملے میں خراب رویہ اختیار کرنے والوں پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی دفتر خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جان نے بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا کے اس طرح کے اقدامات بین الاقومی قانون اور بنیادی عالمی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور چین اس کو یکسر مسترد اور مذمت کرتا ہے۔ژاؤلی جیان نے کہا کہ ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے اور اس کے معاملات مکمل طور پر چین کے اندرونی امور ہیں جس میں بیرونی مداخلت کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم امریکا پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں کو سدھارے اور فوری طور پر ہانگ کانگ اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔گزشتہ دنوں امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ قانون نے ہانگ کانگ کے حوالے سے اقدامات پر چین کی مرکزی حکومت کے 11 عہدیداروں پر پابندی عائد کردی تھی۔اس سے قبل امریکا نے 27 جون کو ہانگ کانگ کی ‘آزادی اور خودمختاری’ پر قدغن لگانے کے الزام میں چین کے متعدد عہدیداروں پر ویزا کی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: