امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن، ٹرمپ پر مقدمہ درج

امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر مقدمے میں موقف اپنایا گیا ہےکہ شٹ ڈاؤن کے سبب تنخواہیں نہیں دی جارہیں اور تنخواہ کے بغیرکوئی ملازم کام کرنے کو تیارنہیں،دوسری جانب کمپنی ملازمین کا کہنا ہے کہ مطلوبہ معاوضے کی ادائیگی کے بغیر کام کرایاجارہا ہے۔

امریکہ میں جاری جزوی شٹ ڈاؤن 22 ویں روز میں داخل ہوچکا ہے اور آٹھ لاکھ سے زائد افراد تنخواہوں سے محروم ہیں ۔ شٹ ڈاؤن کے سبب لاکھوں افراد کو جزوی طور پر گھر بھیج دیا گیا اور ہزاروں افراد بلامعاوضہ کام کرنے پرمجبور ہیں۔

امریکہ میں جاری حالیہ شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ہے۔ اس سے پہلے 1996 میں بل کلنٹن کے دور صدارات میں 21 روز کا شٹ ڈاؤن ہوا تھا۔ یہ امریکہ کا دوسرا طویل شٹ ڈاؤن تھاجمی کارٹر کے دور صدارت میں کاروبارِحکومت 17 روز بند رہا، یہ امریکی تاریخ کا تیسرا بڑا شٹ ڈاؤن شمار ہوتا ہے۔ 2013 میں باراک اوبامہ انتظامیہ کو بھی 16 روز کے لیے شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، یہ امریکہ کا چوتھا طویل شٹ ڈاؤن تھا۔ جمی کارٹر کو پہلے شٹ ڈاؤن کا سامنا 1977 میں کرنا پڑا جب 12 روز کاروبارِ حکومت بند رہا۔ یہ امریکی تاریخ کا پانچواں طویل ترین شٹ ڈاؤن تھا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.