یورپی یونین سے برطانیہ کی علحیدگی

برطانوی پارلیمنٹ میں بریگزیٹ ڈیل کیلیے رائے شماری کی گئی جس میں 7 مختلف ترامیمی بل پیش کیے گئے جس میں سے 5 ترامیمی بل مسترد جب کہ 2 کو منظور کرلیا گیا۔ بغیر ڈیل کیے بریگزٹ پر پابندی سے متعلق جریمی کاربن کا ترمیمی بل مسترد ہو گیا۔اجلاس کے دوران بریگزٹ ڈیل پر برطانوی پارلیمنٹ میں پہلی ترمیم کے حق میں 296 اور مخالفت میں 327 ووٹ ڈالے گئے، ترمیم میں بحث کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بریگزٹ ڈیل پر برطانوی پارلیمنٹ میں اسکاٹ لینڈ کو یورپی یونین سے زبردستی نکالنے سے روکنے کے بارے دوسرا ترمیمی بل بھی ناکام ہوا، ترمیم کے حق میں 39 اور مخالفت میں 327 ووٹ ڈالے گئے۔ ایم پیز کو متبادل ڈھونڈنے کے لیے مزید وقت دینے سے متعلق تیسری ترمیم بھی نامنظور ہو گئی۔ جس کی مخالفت میں 321 اور حمایت میں 301 ووٹ ڈالے گئے۔ بریگزیٹ کو مؤخر کرنے سے متعلق پر چوتھا ترمیمی بل بھی مسترد ہو گیا۔ چوتھی ترمیم 26 فروری تک ڈیل نہ ہونے کی صورت میں بریگزٹ کی تاریخ آگے بڑھانے کے لیے تھی
پانچویں ریوز ترمیم بھی 290 کے مقابلے میں 322 ووٹوں سے مسترد ہو گئی۔ ڈیل کےبغیریورپی یونین سےنہ نکلنے کا ترمیمی بل منظور کر لیا گیا۔ چھٹا ترمیمی بل 310 کے مقابلے میں 318 ووٹوں سے منظور ہوا۔ نو ڈیل بریگزٹ کے امکانات بڑھ گئے، فی الحال ارکان سے نظر ثانی شدہ ڈیل کی منظوری نہیں لی جا ئے گی۔
برطانوی وزیراعظم نےتسلیم کرلیاکہ بریگزٹ سمجھوتےپریورپ سےدوبارہ مذاکرات کی کوشش ہونی چاہیے۔ جبکہ فرانسیسی صدر کا کہناہےکہ برطانیہ سے بریگزٹ ڈیل پر دوبارہ بات چیت نہیں ہوسکتی، یورپی یونین کو نو ڈیل بریگزٹ کی تیاری کرنی چاہیے، یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ بہترین ڈیل ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.