جے آئی ٹی رپورٹ میں نام

بلاول بھٹو کی جانب سے دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ جے آئی ٹی نے مجھے کبھی بلایا ہی نہیں، مجھے سنے بغیر میرے خلاف آبزرویشن دی گئیں، عدالت کے زبانی حکم نامے میں میرا نام جے آئی ٹی رپورٹ سے ہٹانے کا حکم دیا گیا اور تحریری حکم نامے میں میرا نام جے آئی ٹی رپورٹ سے ہٹانے کا نہیں کہاگیا لہٰذا زبانی حکم نامہ تحریری حکم نامے سے مختلف نہیں ہوسکتا۔
اپیل میں کہا گیا ہےکہ جے آئی ٹی نے تسلیم کیا کے میرے خلاف مواد ناکافی ہے، یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ میرا نام جے آئی ٹی میں غلطی سےڈالا گیا، جے آئی ٹی کی تشکیل پر بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں، کیا حساس اداروں کو کسی جے آئی ٹی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے؟ حساس اداروں کے جے آئی ٹی میں شمولیت پر اعتراضات ہیں۔اپیل میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ازخود نوٹس میں عدالت کا کیا دائرہ اختیار ہے؟ یہ تشریح کی جائے، کیا ازخود نوٹس بنیادی حقوق کے علاوہ انفرادی معاملات پر بھی لاگو ہوسکتے ہیں؟ ازخود نوٹس اختیار پر قانونی جائزہ اور نظر ثانی کے لیے بڑا بینچ بنایا جائے۔چیئرمین پیپلزپارٹی کی جانب سے اپیل میں استدعا کی گئی ہےکہ فیصلے سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں، 7 جنوری کے حکم نامے پر نظر ثانی کی جائے، میرا نام جے آئی ٹی سمیت دیگر تفتیشی اداروں سے نکالا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.