بیلاروس کے صدر کے نیٹو پر الزامات

0
لوکاشینکو نے نیٹو پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ روس کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کے لیے مظاہرین کی مدد کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میری حکومت کو ختم کرکے ایک ایسے آدمی کو رکھنا چاہتے ہیں جو دوسرے ممالک سے تعاون کے لیے فوج بھیجنے کا مطالبہ کرے۔لوکاشینکونے کہا کہ ہم لتھوانیا کی بندرگاہ کے راستے ہونے والی درآمدات ختم کردیں گے اور اس حوالے سےاحکامات جاری کرچکا ہوں،انہوں نے کہا کہ لتھوانیا کو بھرپور دینے کیلئے ان کی تمام برآمدات کو بندرگارہ سے واپس کردیا جائے گا ،،اب انہیں روس سے تجارت کے لیے بحیرہ اسود یا بالٹک ریجن سے جانا پڑے گا۔ادھر لتھوانیا کے وزیراعظم سولیوس نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر لوکاشینکو نے اپنی دھمکیوں پر عمل کیا تو اس سے بیلاروس اور اس کے عوام بری طرح متاثر ہوں گے۔ لتھوانیا نے لوکاشینکو کے سب سے بڑے مخالف سویٹلانا ٹیکھانوسکایا کو بیلاروس میں انتخابات کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران پناہ دے رکھی ہے۔اس سے قبل نیٹو اتحاد اس طرح کے الزامات مسترد کرچکا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹین برگ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ لوکاشینکو بیرونی فورسز کو مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا جواز دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے سیکڑوں مظاہرین پر تشدد کیا تھا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: