بنگلہ دیش نے دو ماہ سے سمندر میں پھنسے 396 روہنگیا مسلمانوں کو بچا لیا

0
بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ لوگ 2 ماہ سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھے اور بھوک کی وجہ سے مر رہے تھے۔عہدیدار نے ابتدائی طور پر بچائے گئے افراد کی تعداد 382 بتائی تھی لیکن بعد میں ان افراد کی تعداد 396 کرتے ہوئے بتایا کہ ان بچائے جانے والے افراد کو پڑوسی ملک میانمار بھیجنے کا فیصلہ ہوا ہے،البتہ ایک اور عہدیدار نے ان افراد کو واپس میانمار بھیجنے کے بیان کی تردید کردی۔میانمار ان روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا جس کے سبب انہیں میانمار میں شدید پابندیوں کا سامنا ہے اور یہ نظام صحت، نوکریوں سمیت تمام وسائل سے محروم ہیں۔ویڈیوز میں بیشتر خواتین اور بچوں پر مشتمل اس ہجوم کو انتہائی کمزور اور نحیف حالت میں دیکھا جا سکتا ہے اور ان بچنے والے افراد میں سے ایک نے بتایا کہ ملائیشیا نے انہیں تین مرتبہ واپس بھیج دیا تھا اور ایک موقع پر کشتی میں سوار افراد اور عملے میں جھگڑا بھی ہو گیا تھا۔بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ کے تیکناف اسٹیشن کے انچارج لیفٹیننٹ کمانڈز سہیل رانا نے بتایا کہ انہوں نے ان بچائے جانے والے تمام 396 افراد کو اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی کے سپرد کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر ان تمام افراد کو کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر بنگلہ دیش میں ہی کیمپ میں 14دن قرنطینہ میں رکھے گی جس کے بعد انہیں بنگلہ دیش میں موجود متعلقہ روہنگیا کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔یو این ایچ سی آر کے ترجمان لوئس ڈونوون نے کہا کہ ہمیں کوسٹ گارڈ حکام سے بچائے گئے افراد مل گئے ہیں،ان کو روہنگیا کیمپوں میں طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی،اگر ان میں سے کسی میں بھی کرونا کے شواہد نظر نہیں آئے تو انہیں ٹرانسفر سینٹر کے بعد بنگلہ دیش میں ہی قائم ان کے کیمپوں میں بھیج دیا گیا جائے گا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: