مزید ایک لاکھ پاکستانیوں کو بیروزگار کرنے کا منصوبہ

حکومت نے جولائی 2020ء سے ملک بھر میں قائم بناسپتی گھی بنانے والے تمام کارخانے بند کرنے کا اعلان کردیا۔ فیصلہ بناسپتی گھی کو صحت کیلئے مضر قرار دیئے جانے اور بناسپتی گھی میں سلفر جیسے خطرناک اجزا پائے جانے کے باعث کیا گیا۔
ملک بھرمیں اس وقت 97 ادارے بناسپتی گھی کی تیاری اور فروخت کر رہے ہیں جن میں کم و بیش 25 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد افراد اس کاروبار سے منسلک ہیں اس سے قبل دنیا بھر کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں پہلے ہی بناسپتی گھی کی تیاری اورفروخت پر پابندی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بناسپتی گھی کا استعمال کینسر جیسے امراض کا باعث بن رہاہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.