بھارت کی اعلیٰ ترین عدلیہ بھی ہندوتوا کی حمایتی

0
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بودے کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے نظر ثانی کےحوالےسےدائر ہونےوالی درخواستوں کےحوالے سےاپنےچیمبر میں کیس کی سماعت کی۔ بابری مسجد کیس کا فیصلے دینے والے 4 ججز سنجیو کھنہ،ڈی وائی چند،اشوک بھشن اورایس عبدالنذیر بھی بینچ کا حصہ تھے جنہوں نےنظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔سپریم کورٹ کےبینچ نےدائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اپیل دائر کرنےوالے کسی بھی شخص نے براہ راست فریق کا ذکر نہیں کیا، قانون کے مطابق یہ درخواستیں ناقابلِ سماعت ہیں لہٰذا انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔سپریم کورٹ میں جمعیت علماء ہند، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت دیگر درخواست گزار شامل تھے۔ تمام نظرثانی درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہندو جماعتوں کےغیر قانونی اقدامات کو دوام بخشا، بابری مسجد کی شہادت میں بھی ایسے ہی لوگوں کا ہاتھ شامل تھا۔گزشتہ ماہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وہاں پر مندر بنانے کا حکم جاری کیا تھااور حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ مسلمانوں کومسجد بنانے کیلئے 5 کنال زمین کسی دوسری جگہ دی جائے ۔ عدالتی فیصلے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: