الیکشن 2018میں کروڑوں روپے کی مالی بےضابطگیاں

آڈیٹرجنرل کی رپورٹ کے مطابق ضرورت سے زائد انتخابی سامان کی خریداری پر حکومت کو 36 کروڑ 68 لاکھ روپے اور انتخابی سامان پولنگ اسٹیشنز تک پہنچانے کی مد میں 77 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ الیکشن کمیشن نے ضرورت سے زائد 1 لاکھ 46 ہزار اسکرینیں بھی خریدیں، ضرورت سے زائد اسکرینیں خریدے جانے پر قومی خزانہ کو 22 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے ضرورت سے زائد 1 لاکھ 15 ہزار بیلٹ باکس خریدے، ضرورت سے زائد بیلٹ باکسز خریدنے پرقومی خزانہ کو 14 کروڑ 64 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ الیکشن کمیشن نے بیلٹ باکس کی خریداری میں بھی اپنی من پسند کمپنی کو فائدہ پہنچایا اور 22 کروڑ 83 لاکھ کی بولی کے مقابلے میں 25 کروڑ 72 لاکھ بولی لگانے والی کمپنی کوٹھیکا دے دیا، اس غلط فیصلے کی وجہ سے قومی خزانے کو 2 کروڑ 89 لاکھ کا نقصان ہوا۔رپورٹ میں موبائل فون کمپنیز کا 8300 ایس ایم ایس سروس کے 10 کروڑ 81 لاکھ روپے الیکشن کمیشن کو نہ دیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے، موبائل فون کمپنیز نے الیکشن کمیشن کا شیئر نادرا کے حوالے کردیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنا شیئرحاصل کرنے کے لیے نادرا سے بات نہ کرنے پر بھی قومی خزانہ کو نقصان ہوا۔اس طرح الیکشن کمیشن نے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچایا بلکہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہوا کیوں کہ پیپرا رولز کے مطابق کم بولی والی کمپنی کو ٹھیکہ ملنا چاہیے تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.