سپیس سٹیشن کا خواب آنکھوں میں سجائےخلابازوں کا غاروں کا سفر

خلابازوں کیلئے 6 ہفتوں پرمشتمل اس ٹریننگ کا اہتمام یورپی سپیس ایجنسی کی جانب سے کیا گیا اورچھ رکنی اس ٹیم میں امریکا، جاپان ،جرمنی،روس اور کینیڈا کے خلاباز شامل تھے جبکہ اس پروگرام کا مقصد بطور ٹیم اکھٹے کام کرتے ہوئے، انتہائی پیچیدہ ماحول میں مشن مکمل کرنا ہے، تاکہ خلا میں پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال سے بخوبی نمٹا جا سکے۔سلوانیہ کی ان مخصوص غاروں کو یونیسکو کی نے ثقافتی ہیریٹج بھی قرار دے رکھا ہے،،، گہری، سرد اور کیچڑ سے بھری ان غاروں میں ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزارنے کے بعد جب یہ خلاباز باہر نکلے تو وہ سپیس سوٹ کے بجائے غار کے ساز و سامان سے لیس تھےخلابازوں کا کہنا تھا کہ غاروں کی ایک حیرت انگیز اجنبی دنیا ہے اور غار میں رہنا خلا سے بھی زیادہ مشکل ہے کیونکہ ان غاروں میں درجہ حرارت 6 سے 10 ڈگری کے درمیان ہوتا ہے اور ہوا میں 100 فیصد نمی رہتی ہے جبکہ روشنی کا بھی نام و نشان نہیں ہوتا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.