ارفع کریم، آج بھی دلوں میں زندہ

محض نو برس کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل امتحان پاس کر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی ارفع کریم رندھاوا دو فروری 1995ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کم عمری میں ہی سافٹ وئیر سرٹیفکیٹ حاصل کر کے عالمی شہرت حاصل کی۔ ارفع کریم رندھاوا کو دنیا کے امیر ترین شخص اور مائیکرو سافٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بل گیٹس نے ذاتی مہمان بنا کر امریکا آنے کی دعوت دی اور مائیکرو سافٹ ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کرایا۔
ارفع کریم رندھاوا اس وقت دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی تھیں، انھیں کم عمری میں ہی پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ارفع کریم کو 22 دسمبر 2011ء کو مرگی کا دورہ پڑا اور طبیعت زیادہ خراب ہونے پر لاہور کے سی ایم ایچ ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہاں وہ کومے کی حالت میں رہیں اور 14 جنوری 2012ء کو انتقال کر گئیں
شوخ و چنچل اور اپنی زندگی کُھل کر جینے والی ارفع آج ہم میں نہیں مگر اس کی طرح دیگر کئی کم عمر مائیکروسافٹ پروفیشنلز اس کا مشن جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں، ارفع کریم رندھاوا ایک پھول تھا جو مرجھا گیا مگر اس کی خوشبو آج بھی دل و دماغ پر مہک رہی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.