وائرس کےعدم پھیلاؤ کیلئےجراثیم کش سپرے مضرصحت ہوسکتا ہے،ڈبلیوایچ او

0

ڈبلیو ایچ اونے خبردارکیا ہےکہ بعض ممالک میں کرونا وائرس کے عدم پھیلاؤ کے لیےجاری جراثیم کش چھڑکاؤ سےصحت کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کےمطابق جراثیم کش اسپرے کے ذریعے اشیا کے سطحی حصوں کی صفائی غیر مؤثر ہوسکتی ہے،گلیوں یا بازاروں جیسی بیرونی جگہوں پرجراثیم کش چھڑکاؤ یا دھوئیں سےکرونا وائرس ختم ہونا ثابت نہیں ہے
عالمی ادارے صحت کےمطابق سڑکیں اورعوامی مقامات ’وائرس کے ذخائر‘ کےطورپرسامنے نہیں آئےہیں اورباہربھی جراثیم کش سپرےکاچھڑکاؤ ’انسانی صحت‘ کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے،ڈبلیو ایچ او کے دستاویزات میں زور دیا گیا کہ جراثیم کش اسپرے والے فرد کو ’کسی بھی حالت میں اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے‘ یہ جسمانی اورنفسیاتی طورپرنقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اوریہ لوکل ٹرانسمیشن کوکم نہیں کرے گا۔
ڈبلیو ایچ او کےمطابق لوگوں پر کلورین یا دیگر زہریلے کیمیکل کے چھڑکاؤ سے آنکھوں اور جلد میں جلن سمیت معدے کی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی روک تھام یا اس کےعدم پھیلاؤ کے لیے مختلف طریقے اپنائے جارہےہیں۔ملائیشیا سمیت دیگرممالک میں ایسے جراثیم کش گیٹ نصب کیے گئے ہیں جس میں گزرنے والے ہرشخص پرسپرے ہوتا ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: