کووڈ 19 کےمریضوں میں ایک اورجان لیوا پیچیدگی کا انکشاف

0

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اکیوٹ کڈنی فیلیئر یا اے کےآئی کووڈ 19 کی ایک سنگین پیچیدگی ہے جس پرزیادہ توجہ نہیں گئی اوراچھی طرح سمجھا بھی نہیں گیا،تحقیق کےمطابق گردے فیل ہونے کا سامنا کرنے والےمریضوں میں کووڈ 19 کےنتیجے میں اموات کی شرح 50 فیصد ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں خصوصاً آئی سی یومیں زیرعلاج 25 سے 30 فیصد مریضوں میں اے کےآئی کاخطرہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے لیےسائنسدانوں نےچین میں حال ہی میں ہونےوالی 2 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا جس میں کووڈ 19 سےہلاک ہونے والےمریضوں کے گردوں کے نمونوں کی تفصیلات دی گئی تھیں۔نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کےمریضوں میں اے کے آئی کی جوقسم نظرآرہی ہےوہ بہت پیچیدہ ہےاوراس میں ایسےمتعدد عناصرموجود ہیں جو عام اے کے آئی مریضوں میں نظرنہیں آتے۔ان منفرد عناصرمیں کرونا وائرس کاگردوں پرحملہ،خون کےلوتھڑے بننا اورورم قابل ذکرہیں۔
اس تحقیق کےنتائج جریدے جرنل آف دی امریکن سوسائٹی آف نیفرولوجی میں شائع ہوئےاورپہلی باراس ممکنہ میکنزم پرروشنی ڈالی گئی کہ کس طرح گردے فیل ہونے کا مسئلہ کووڈ 19 کے مریضوں کوشکارکرسکتا ہے۔
۔محققین کا کہنا ہےکہ اس میکنزم کوزیادہ بہترسمجھنےسےموثرعلاج کی تشکیل میں مدد مل سکےگی ،اس سے قبل اپریل میں چینی سائنسدانوں کی جریدے جرنل کڈننی انٹرنیشنل میں شائع تحقیق میں کووڈ 19 سےہلاک ہونے والے افراد کا بعد ازمرگ پوسٹمارٹم کیا گیا اور 26 میں سے 9 میں گردوں کو نقصان پہنچنےکاانکشاف ہواتھا

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: