مودی سرکارنے بھارتیوں پرمقبوضہ وادی کے دروازے کھول دیئے

0

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کو خصوصی حیثیت ختم کرنے اور مقبوضہ خطے کو تقسیم کرنے کے بعد سرکاری نوکریوں کے حوالے سے بھی متنازع قانون نافذ کردیا ۔نئےمتنازع قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیرمقامی رہائشیوں کیلئے
مختص ہیں جبکہ دیگر تمام نوکریاں پورے بھارت کے شہریوں کے لیے بھی کھلی ہوں گی۔بھارتی حکومت نے متنازع قانون کے تحت شہریت کی تعریف بھی بدل دی ہے اور اس میں گزشتہ 15 برس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں رہنے والے افراد کو بھی شامل کرلیا گیاہےاس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی حکومت کے عہدیداروں کے بچوں کو بھی اس فہرست میں شامل کرلیا گیا ہےنوٹیفکیشن کے مطابق اس متنازعہ قانون کی شقوں کے تحت کوئی بھی فرد بنیادی سکیل کی چوتھی سطح کا اہل نہیں ہوگا جس کی تنخواہ 25 ہزار 500 بھارتی روپیہ بنتی ہے، سوائے جموں و کشمیر کا ڈومیسائل رکھنے والے افراد کے ۔ متنازعہ قانون کا نوٹیفکیشن بھارت کی وزارت داخلہ سے جاری کیا گیا اور تحصیلدار کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس کا فوری نفاذ کرے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اس قانون کو مسترد کردیا۔ نیشنل کانفرنس کے سربراہ عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی حکومت زخموں کو گہرا کرکے توہین کر رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس سے جنگ جاری ہے اس طرح کے قانون جاری کیے جارہے ہیں۔ادھرمحبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈومیسائل کے قانون سے نہ صرف ریاست کی موجودہ سرحدوں کو جھنجھوڑا گیا ہے بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کو بدترین مسائل سے دوچار کرنے کی کوشش ہے’۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: