آف شورکمپنیاں اور آمدن سے زائداثاثوں کا الزام

نیب حکام نے آف شور کمپنی اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کو سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت میں پیش کیا۔ دورانِ سماعت نیب پراسیکیورٹر نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ علیم خان کا 2002 میں 190 لاکھ کا بانڈ نکلا، 10کروڑ 90 لاکھ علیم خان کےوالد کو باہر سےآمدن آئی مگر بھیجنے والا کوئی نہیں، اے اینڈ اے سے والدہ کو 198 ملین 2012 میں آمدن آئی، باہر سے آئی آمدن تسلیم نہیں کرتے لیکن بانڈ تسلیم کرتے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ علیم خان نے 2018 میں 871 ملین اثاثےظاہر کیے، ان کے اثاثے آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے جبکہ ملزم اثاثوں اور آمدن سے متعلق مطمئن نہیں کر سکے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے اثاثوں اور آمدن کے ذرائع کی تحقیقات کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
اس موقع پر علیم خان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل کے تمام اثاثے قانونی ہیں۔نیب نے آج تک آف شور اثاثوں سے متعلق ایک ثبوت پیش نہیں کیا، نیب جن دستاویزات کی بات کر رہی ہے وہ ہم نے خود فراہم کیے۔علیم خان کاروبار کرتے ہیں، انہوں نے آج تک عہدے کا غلط استعمال نہیں کیا۔ علیم خان کو جب بلایا گیا پیش ہوئے لہذا جسمانی ریمانڈ کی ضروت نہیں۔ عدالت نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے علیم خان کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا جبکہ ملزم کو 15 فروری کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
نیب لاہورنے گذشتہ روزعلیم خان کو تفتیش کے لیے طلب کیا تھا، جس کے لیے وہ نیب آفس پہنچے، جہاں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد علیم خان نے سینئر صوبائی وزیر بلدیات کی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.