لوک گلوکار الّن فقیرکی 19ویں برسی

اندرون سندھ کے گاؤں آمڑی میں پیدا ہونے والے الن فقیر کا تعلق منگراچی قبیلےسے تھا، سندھ کے روایتی لباس میں ملبوس الن فقیر نے اپنی مخصوص گائیگی کے ذریعے صوفیانہ کلام کو جس انداز میں پیش کیا ،وہ صوفیانہ شاعری سے ان کی محبت کا واضح ثبوت ہے،،،الن فقیرکو۔۔ اللہ اللہ کربھیا۔۔اور۔۔ تیرےعشق میں جوبھی ڈوب گیا۔ گانوں نے شہرت کی بلندیوں تک پہنچایاالن فقیرکو انیس سو اسی میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا،اس کے علاوہ شاہ لطیف ایوارڈ،شہباز ایوارڈ اور کندھ کوٹ ایوارڈز بھی دیئے گئے،،،لوک گلوکاری کا بے تاج بادشاہ الن فقیر نے تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا‘‘ اور ’’اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا‘‘جیسے لازوال نغمے بھی دیے۔اپنے جداگانہ انداز گلوکاری کی بدولت لاکھوں دلوں میں گھر کرنے والا یہ چمکتا ستارہ چار جولائی سن دو ہزار کو جہان فانی سے کوچ کر گیا مگر وہ آج بھی اپنے چاہنے والے کے دلوں میں زندہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.